ADVERTISEMENT

پڑے مجھ پر نہ کچھ افتاد یا غوث | Pade Mujh Par Na Kuchh Uftad Ya Ghous Lyrics in Urdu

پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد، یا غوث !
مدد پر ہے تیری اِمداد، یا غوث !

اُڑے تیری طرف بعدِ فنا خاک
نہ ہو مِٹِّی مِری برباد، یا غوث !

مِرے دل میں بسے جلوے تمہارے
یہ ویرانہ بنے بغداد، یا غوث !

نہ بُھولوں بُھول کر بھی یاد تیری
نہ یاد آئے کسی کی یاد، یا غوث !

مُریدی لَا تَخَفْ فرماتے آؤ
بَلاؤں میں ہے یہ ناشاد، یا غوث !

گلے تک آ گیا سیلاب غم کا
چلا میں آئیے فریاد، یا غوث !

نشیمن سے اُڑا کر بھی نہ چھوڑا
ابھی ہے گھات میں صیّاد، یا غوث !

خمیدہ سر گرفتارِ قضا ہے
کشیدہ خنجرِ جلّاد، یا غوث !

اندھیری رات، جنگل، میں اکیلا
مدد کا وقت ہے فریاد، یا غوث !

کِھلا دو غنچۂ خاطر کہ تم ہو
بہارِ گُلشنِ ایجاد، یا غوث !

مِرے غم کی کہانی آپ سُن لیں
کہوں میں کس سے یہ رُوداد، یا غوث !

رہوں آزادِ قیدِ عشق کب تک
کرو اِس قید سے آزاد، یا غوث !

کرو گے کب تک اچّھا مجھ بُرے کو
مِرے حق میں ہے کیا اِرشاد، یا غوث !

غمِ دنیا غمِ قبر و غمِ حشر
خدا را کر دو مجھ کو شاد، یا غوث !

حسن منگتا ہے دے دے بھیک داتا
رہے یہ راج پاٹ آباد، یا غوث !


شاعر:

مولانا حسن رضا خان بریلوی

نعت خواں:
اویس رضا قادری
محمد حسان رضا قادری
صابر رضا اظہری سورت

تبصرے