طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث | Talab Ka Munh To Kis Qabil Hai Ya Ghaus Lyrics in Urdu
طلب کا مُنھ تو کس قابِل ہے، یا غوث
!
مگر تیرا کرم کامِل ہے یا غوث
دوہائی یَا مُحِیُّ الدِّین دوہائی
بَلا اسلام پر نازِل ہے، یا غوث !
وہ سنگیں بِدعَتیں وہ تیزیِ کُفْر
کہ سر پر تِیغ دِل پر سِل ہے، یا غوث !
عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْقِتَالٖ
مدد کو آ دمِ بِسمِل ہے، یا غوث !
خُدا را ناخُدا آ دے سہارا
ہوا بگڑی بھَنْوَر حائِل ہے، یا غوث !
جِلا دے دیں، جَلا دے کُفْر و اِلحاد
کہ تو محیٖی ہے تو قاتل ہے، یا غوث !
تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت
نہ تو عاجِز نہ تو غافِل ہے، یا غوث !
رہی ہاں شامتِ اعمال یہ بھی
جو تو چاہے ابھی زائِل ہے، یا غوث !
غَیُورا! اپنی غیرت کا تَصَدُّق
وہی کر جو تِرے قابِل ہے، یا غوث !
خُدا را مرہمِ خاکِ قدم دے
جِگر زخمی ہے دِل گھائِل ہے، یا غوث !
نہ دیکھوں شکلِ مُشکل تیرے آگے
کوئی مُشکل سی یہ مُشکل ہے، یا غوث !
وہ گھیرا رِشتۂ شرکِ خَفی نے
پھنسا زُنّار میں یہ دِل ہے، یا غوث !
کیے تَرسا و گَبْر اَقطاب و اَبدال
یہ محض اسلام کا سائِل ہے، یا غوث !
تو قُوَّت دے میں تنہا کام بِسیار
بدن کمزور دِل کاہِل ہے، یا غوث !
عَدُو بد دین مذہب والے حاسِد
تو ہی تنہا کا زورِ دل ہے، یا غوث !
حسد سے ان کے سینے پاک کر دے
کہ بَدتر دِق سے بھی یہ سِل ہے، یا غوث !
غِذائے دِق یہی خُوں اُستخواں گوشت
یہ آتِش دین کی آکِل ہے، یا غوث !
دِیا مجھ کو اُنھیں محروم چھوڑا
مِرا کیا جُرم حق فاصِل ہے، یا غوث !
خدا سے لیں لڑائی وہ ہے مُعطِی
نبی قاسِم ہے تو مُوصِل ہے، یا غوث !
عطائیں مُقْتَدِر غَفَّار کی ہیں
عَبَث بندوں کے دِل میں غِل ہے، یا غوث !
تِرے بابا کا پھر تیرا کرم ہے
یہ مُنھ ورنہ کِسی قابِل ہے، یا غوث !
بھَرَن والے تِرا جھالا تو جھالا
تِرا چِھینٹا مِرا غاسِل ہے، یا غوث !
ثَنا مَقْصود ہے عَرضِ غَرض کیا
غَرض کا آپ تُو کافِل ہے، یا غوث !
رضا کا خاتِمہ بالخیر ہو گا
تِری رحمت اگر شامِل ہے، یا غوث !
شاعر:
امام احمد رضا خان
نعت خواں:
اویس رضا قادری
مگر تیرا کرم کامِل ہے یا غوث
دوہائی یَا مُحِیُّ الدِّین دوہائی
بَلا اسلام پر نازِل ہے، یا غوث !
وہ سنگیں بِدعَتیں وہ تیزیِ کُفْر
کہ سر پر تِیغ دِل پر سِل ہے، یا غوث !
عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْقِتَالٖ
مدد کو آ دمِ بِسمِل ہے، یا غوث !
خُدا را ناخُدا آ دے سہارا
ہوا بگڑی بھَنْوَر حائِل ہے، یا غوث !
جِلا دے دیں، جَلا دے کُفْر و اِلحاد
کہ تو محیٖی ہے تو قاتل ہے، یا غوث !
تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت
نہ تو عاجِز نہ تو غافِل ہے، یا غوث !
رہی ہاں شامتِ اعمال یہ بھی
جو تو چاہے ابھی زائِل ہے، یا غوث !
غَیُورا! اپنی غیرت کا تَصَدُّق
وہی کر جو تِرے قابِل ہے، یا غوث !
خُدا را مرہمِ خاکِ قدم دے
جِگر زخمی ہے دِل گھائِل ہے، یا غوث !
نہ دیکھوں شکلِ مُشکل تیرے آگے
کوئی مُشکل سی یہ مُشکل ہے، یا غوث !
وہ گھیرا رِشتۂ شرکِ خَفی نے
پھنسا زُنّار میں یہ دِل ہے، یا غوث !
کیے تَرسا و گَبْر اَقطاب و اَبدال
یہ محض اسلام کا سائِل ہے، یا غوث !
تو قُوَّت دے میں تنہا کام بِسیار
بدن کمزور دِل کاہِل ہے، یا غوث !
عَدُو بد دین مذہب والے حاسِد
تو ہی تنہا کا زورِ دل ہے، یا غوث !
حسد سے ان کے سینے پاک کر دے
کہ بَدتر دِق سے بھی یہ سِل ہے، یا غوث !
غِذائے دِق یہی خُوں اُستخواں گوشت
یہ آتِش دین کی آکِل ہے، یا غوث !
دِیا مجھ کو اُنھیں محروم چھوڑا
مِرا کیا جُرم حق فاصِل ہے، یا غوث !
خدا سے لیں لڑائی وہ ہے مُعطِی
نبی قاسِم ہے تو مُوصِل ہے، یا غوث !
عطائیں مُقْتَدِر غَفَّار کی ہیں
عَبَث بندوں کے دِل میں غِل ہے، یا غوث !
تِرے بابا کا پھر تیرا کرم ہے
یہ مُنھ ورنہ کِسی قابِل ہے، یا غوث !
بھَرَن والے تِرا جھالا تو جھالا
تِرا چِھینٹا مِرا غاسِل ہے، یا غوث !
ثَنا مَقْصود ہے عَرضِ غَرض کیا
غَرض کا آپ تُو کافِل ہے، یا غوث !
رضا کا خاتِمہ بالخیر ہو گا
تِری رحمت اگر شامِل ہے، یا غوث !
شاعر:
امام احمد رضا خان
نعت خواں:
اویس رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں