منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھو | Mangte Khali Haath Na Laute Lyrics in Urdu
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے، کتنی مِلی خیرات نہ پوچھو
اُن کا کرم پھر اُن کا کرم ہے، اُن کے کرم کی بات نہ پوچھو
کُنتُ کنزاً رازِ مَشِیَّت جلوۂ اسرا نُورِ ہدایت
جگمگ جگمگ دونوں عالم، کیسی ہے وہ ذات نہ پوچھو
عشقِ نبی کونین کی دولت، عشقِ نبی بخشش کی ضمانت
اس سے بڑھ کر دستِ طلب میں ہے بھی کوئی سوغات نہ پوچھو
رشکِ جناں طیبہ کی گلیاں، ہر ذرّہ فِردوس بداماں
چاروں طرف انوار کا عالم، رحمت کی برسات نہ پوچھو
ظاہر میں تسکینِ دل و جاں، باطن میں معراجِ دل و جاں
نامِ نبی پھر نامِ نبی ہے، نامِ نبی کی بات نہ پوچھو
حال اگر کچھ اپنا سُنایا، اُن کے کرم کا شِکوہ ہوگا
میں اپنے حالات میں خوش ہُوں، مجھ سے مِرے حالات نہ پوچھو
تاجِ شفاعت سر پر پہنے حشر کا دولہا آ پہنچا ہے
آنکھیں کھولو غور سے دیکھو، کس کی ہے بارات نہ پوچھو
میں کیا اور کیا میری حقیقت، سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
میں تو بُرا ہُوں لیکن میری لاج ہے کس کے ہاتھ نہ پوچھو
خالِد ! میں صرف اتنا کہوں گا، جاگ اُٹھا اشکوں کا مُقَدّر
یادِ نبی میں روتے روتے کیسے کٹی ہے رات نہ پوچھو
شاعر:
خالد محمود نقشبندی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
زوہیب اشرفی
اُن کا کرم پھر اُن کا کرم ہے، اُن کے کرم کی بات نہ پوچھو
کُنتُ کنزاً رازِ مَشِیَّت جلوۂ اسرا نُورِ ہدایت
جگمگ جگمگ دونوں عالم، کیسی ہے وہ ذات نہ پوچھو
عشقِ نبی کونین کی دولت، عشقِ نبی بخشش کی ضمانت
اس سے بڑھ کر دستِ طلب میں ہے بھی کوئی سوغات نہ پوچھو
رشکِ جناں طیبہ کی گلیاں، ہر ذرّہ فِردوس بداماں
چاروں طرف انوار کا عالم، رحمت کی برسات نہ پوچھو
ظاہر میں تسکینِ دل و جاں، باطن میں معراجِ دل و جاں
نامِ نبی پھر نامِ نبی ہے، نامِ نبی کی بات نہ پوچھو
حال اگر کچھ اپنا سُنایا، اُن کے کرم کا شِکوہ ہوگا
میں اپنے حالات میں خوش ہُوں، مجھ سے مِرے حالات نہ پوچھو
تاجِ شفاعت سر پر پہنے حشر کا دولہا آ پہنچا ہے
آنکھیں کھولو غور سے دیکھو، کس کی ہے بارات نہ پوچھو
میں کیا اور کیا میری حقیقت، سب کچھ ہے سرکار کی نسبت
میں تو بُرا ہُوں لیکن میری لاج ہے کس کے ہاتھ نہ پوچھو
خالِد ! میں صرف اتنا کہوں گا، جاگ اُٹھا اشکوں کا مُقَدّر
یادِ نبی میں روتے روتے کیسے کٹی ہے رات نہ پوچھو
شاعر:
خالد محمود نقشبندی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
زوہیب اشرفی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں