میری نسلوں کا نعرہ ہے میں غوث پاک کے صدقے | Meri Naslon Ka Nara Hai Main Ghaus-e-Pak Ke Sadqe Lyrics in Urdu
شاہبازِ لا مکانی! قِنْدِیلِ نُورانی !
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
یہی میرا عقیدہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
فضائیں بھی مہکتی ہیں جو چومیں غوث کا روضہ
وہ گُنبد کیا مہکتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
یہاں بھی غوثِ اعظم کا، وہاں بھی غوثِ اعظم کا
فقط اُن سے ہی رِشتہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
جو صدمہ غم کا لگتا ہے "کرم یا غوث" کہتا ہوں
میری ماں نے سکھایا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
میری ہے دوستی اُن سے جو عاشق غوثِ اعظم کے
زباں پہ جِن کے رہتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
وسیلہ غوث کا مانگو، دُعائیں رد نہیں ہوتی
خدا کو غوث پیارا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
مجھے دربارِ غوثِ پاک نے سِکھلائے ہیں آداب
قدم رُک رُک کے اُٹھتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
اُجاگر ہو گیا قُربان عیدِ غوثیہ آئی
درِ اقدس پہ پہنچا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
شاہبازِ لا مکانی! قِنْدِیلِ نُورانی !
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ ڈاکٹر نثار احمد معرفانی
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
یہی میرا عقیدہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
فضائیں بھی مہکتی ہیں جو چومیں غوث کا روضہ
وہ گُنبد کیا مہکتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
یہاں بھی غوثِ اعظم کا، وہاں بھی غوثِ اعظم کا
فقط اُن سے ہی رِشتہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
جو صدمہ غم کا لگتا ہے "کرم یا غوث" کہتا ہوں
میری ماں نے سکھایا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
میری ہے دوستی اُن سے جو عاشق غوثِ اعظم کے
زباں پہ جِن کے رہتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
وسیلہ غوث کا مانگو، دُعائیں رد نہیں ہوتی
خدا کو غوث پیارا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں
مجھے دربارِ غوثِ پاک نے سِکھلائے ہیں آداب
قدم رُک رُک کے اُٹھتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
اُجاگر ہو گیا قُربان عیدِ غوثیہ آئی
درِ اقدس پہ پہنچا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے
شاہبازِ لا مکانی! قِنْدِیلِ نُورانی !
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ ڈاکٹر نثار احمد معرفانی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں