مصطفیٰ خیر الوریٰ ہو | Mustafa Khair-ul-wara Ho Lyrics in Urdu
مصطفیٰ ! خیر الوریٰ ہو
سرورِ ہر دو سَرا ہو
اپنے اچّھوں کا تَصَدُّق
ہم بدوں کو بھی نِباہو
کس کے پھر ہو کر رہیں ہم
گر تمہیں ہم کو نہ چاہو
بَد ہنسیں تم اُن کی خاطِر
رات بھر روؤ کراہو
بد کریں ہر دم بُرائی
تم کہو اُن کا بھلا ہو
ہم وہی نا شُسْتَہ رُو ہیں
تم وہی بحرِ عطا ہو
ہم وہی شایانِ رَد ہیں
تم وہی شانِ سخا ہو
ہم وہی بے شرم و بد ہیں
تم وہی کانِ حیا ہو
ہم وہی نَنگِ جَفا ہیں
تم وہی جانِ وَفا ہو
ہم وہی قابل سزا کے
تم وہی رحمِ خُدا ہو
چَرخ بدلے، دَہر بدلے
تم بدلنے سے وَرا ہو
اب ہمیں ہوں سَہْو حاشا
ایسی بُھولوں سے جُدا ہو
عمر بھر تو یاد رکّھا
وقت پر کیا بُھولنا ہو
وقتِ پیدایِش نہ بھولے
کَیْفَ یَنْسٰی کیوں قضا ہو
یہ بھی، مولا ! عرض کر دوں
بُھول اگر جاؤ تو کیا ہو
وہ ہو جو تم پر گِراں ہے
وہ ہو جو ہرگز نہ چاہو
وہ ہو جس کا نام لیتے
دشمنوں کا دل بُرا ہو
وہ ہو جس کے رَد کی خاطر
رات دن وَقْفِ دُعا ہو
مَر مِٹیں برباد بندے
خانہ آباد آگ کا ہو
شاد ہو اِبلیس مَلْعُوں
غم کسے اِس قَہر کا ہو
تم کو ہو وَاللّٰہ تم کو
جان و دل تم پر فِدا ہو
تم کو غم سے حق بچائے
غم عَدُو کو جاں گَزا ہو
تم سے غم کو کیا تَعَلُّق
بیکسوں کے غم زِدا ہو
حق دُرُودیں تم پہ بھیجے
تم مُدام اُس کو سراہو
وہ عطا دے، تم عطا لو
وہ وہی چاہے جو چاہو
بر تو اُو پاشَد تو بَر ما
تااَبد یہ سِلْسِلہ ہو
کیوں، رضا ! مشکل سے ڈریئے
جب نبی مشکل کُشا ہو
شاعر:
امام احمد رضا خان
نعت خواں:
اویش رضا قادری
سرورِ ہر دو سَرا ہو
اپنے اچّھوں کا تَصَدُّق
ہم بدوں کو بھی نِباہو
کس کے پھر ہو کر رہیں ہم
گر تمہیں ہم کو نہ چاہو
بَد ہنسیں تم اُن کی خاطِر
رات بھر روؤ کراہو
بد کریں ہر دم بُرائی
تم کہو اُن کا بھلا ہو
ہم وہی نا شُسْتَہ رُو ہیں
تم وہی بحرِ عطا ہو
ہم وہی شایانِ رَد ہیں
تم وہی شانِ سخا ہو
ہم وہی بے شرم و بد ہیں
تم وہی کانِ حیا ہو
ہم وہی نَنگِ جَفا ہیں
تم وہی جانِ وَفا ہو
ہم وہی قابل سزا کے
تم وہی رحمِ خُدا ہو
چَرخ بدلے، دَہر بدلے
تم بدلنے سے وَرا ہو
اب ہمیں ہوں سَہْو حاشا
ایسی بُھولوں سے جُدا ہو
عمر بھر تو یاد رکّھا
وقت پر کیا بُھولنا ہو
وقتِ پیدایِش نہ بھولے
کَیْفَ یَنْسٰی کیوں قضا ہو
یہ بھی، مولا ! عرض کر دوں
بُھول اگر جاؤ تو کیا ہو
وہ ہو جو تم پر گِراں ہے
وہ ہو جو ہرگز نہ چاہو
وہ ہو جس کا نام لیتے
دشمنوں کا دل بُرا ہو
وہ ہو جس کے رَد کی خاطر
رات دن وَقْفِ دُعا ہو
مَر مِٹیں برباد بندے
خانہ آباد آگ کا ہو
شاد ہو اِبلیس مَلْعُوں
غم کسے اِس قَہر کا ہو
تم کو ہو وَاللّٰہ تم کو
جان و دل تم پر فِدا ہو
تم کو غم سے حق بچائے
غم عَدُو کو جاں گَزا ہو
تم سے غم کو کیا تَعَلُّق
بیکسوں کے غم زِدا ہو
حق دُرُودیں تم پہ بھیجے
تم مُدام اُس کو سراہو
وہ عطا دے، تم عطا لو
وہ وہی چاہے جو چاہو
بر تو اُو پاشَد تو بَر ما
تااَبد یہ سِلْسِلہ ہو
کیوں، رضا ! مشکل سے ڈریئے
جب نبی مشکل کُشا ہو
شاعر:
امام احمد رضا خان
نعت خواں:
اویش رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں