تم ذات خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو | Tum Zaat-e-Khuda Se Na Juda Ho Na Khuda Ho
تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللّٰہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو
وہ دو کہ ہمیشہ میرے گھر بھر کا بھلا ہو
جس بات میں مشہورِ جہاں ہے لبِ عیسیٰ
اے جانِ جہاں ! وہ تِری ٹھوکر سے ادا ہو
ٹُوٹے ہوئے دَم، جوش پہ طوفانِ معاصی
دامن نہ مِلے اُن کا تو کیا جانیے کیا ہو
یوں جُھک کے مِلے ہم سے کمینوں سے وہ جس کو
اللّٰہ نے اپنے ہی لئے خاص کِیا ہو
مٹّی نہ ہو برباد پسِ مرگ، الٰہی !
جب خاک اُڑے میری مدینے کی ہوا ہو
منگتا تو ہے منگتا کوئی شاہوں میں دِکھا دے
جس کو مِرے سرکار سے ٹُکڑا نہ مِلا ہو
قدرت نے اَزَل میں یہ لکھا اُن کی جبیں پر
جو اُن کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو
ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تُلا ہے
کچھ کام نہیں اس سے بُرا ہو کہ بھلا ہو
سو جا سے گنہگار کا ہو رختِ عمل چاک
پردہ نہ کُھلے گر تِرے دامن سے بندھا ہو
ابرار نِکو کار خدا کے ہیں خدا کے
اُن کا ہے وہ اُن کا ہے جو بد ہو جو بُرا ہو
اے نَفْس ! اُنہیں رَنج دِیا اپنی بدی سے
کیا قہر کِیا تو نے، اَرے تیرا بُرا ہو
اللّٰہ یوں ہی عُمْر گزر جائے گدا کی
سر خم ہو دَرِ پاک پر اور ہاتھ اُٹھا ہو
شاباش، حسن ! اور چمکتی سی غزل پڑھ
دِل کھول کر آئینۂ ایماں کی جِلا ہو
شاعر:
مولانا حسن رضا خان بریلوی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
اللّٰہ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو
یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو
وہ دو کہ ہمیشہ میرے گھر بھر کا بھلا ہو
جس بات میں مشہورِ جہاں ہے لبِ عیسیٰ
اے جانِ جہاں ! وہ تِری ٹھوکر سے ادا ہو
ٹُوٹے ہوئے دَم، جوش پہ طوفانِ معاصی
دامن نہ مِلے اُن کا تو کیا جانیے کیا ہو
یوں جُھک کے مِلے ہم سے کمینوں سے وہ جس کو
اللّٰہ نے اپنے ہی لئے خاص کِیا ہو
مٹّی نہ ہو برباد پسِ مرگ، الٰہی !
جب خاک اُڑے میری مدینے کی ہوا ہو
منگتا تو ہے منگتا کوئی شاہوں میں دِکھا دے
جس کو مِرے سرکار سے ٹُکڑا نہ مِلا ہو
قدرت نے اَزَل میں یہ لکھا اُن کی جبیں پر
جو اُن کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو
ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تُلا ہے
کچھ کام نہیں اس سے بُرا ہو کہ بھلا ہو
سو جا سے گنہگار کا ہو رختِ عمل چاک
پردہ نہ کُھلے گر تِرے دامن سے بندھا ہو
ابرار نِکو کار خدا کے ہیں خدا کے
اُن کا ہے وہ اُن کا ہے جو بد ہو جو بُرا ہو
اے نَفْس ! اُنہیں رَنج دِیا اپنی بدی سے
کیا قہر کِیا تو نے، اَرے تیرا بُرا ہو
اللّٰہ یوں ہی عُمْر گزر جائے گدا کی
سر خم ہو دَرِ پاک پر اور ہاتھ اُٹھا ہو
شاباش، حسن ! اور چمکتی سی غزل پڑھ
دِل کھول کر آئینۂ ایماں کی جِلا ہو
شاعر:
مولانا حسن رضا خان بریلوی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں