یہ مہر و ماہ ستاروں کی دلکشی کیا ہے | Ye Mehr-o-Mah Sitaron Ki Dilkashi Kya Hai Lyrics in Urdu
یہ مہر و ماہ سِتاروں کی دِلکشی کیا ہے
نبی کے حُسْن کے آگے یہ چاندنی کیا ہے
نبی کی نعت پڑھی جا رہی ہے محفل میں
ذرا بتائیے لب پر یہ خاموشی کیا ہے
اگر ہے آنا تو آنا نبی کے روضے پر
اے موت ! تجھ کو بتاؤں گا زندگی کیا ہے
نبی کے شہر میں جنّت تلاش کرتا ہے
ذرا مجھے تو بتا اُس جگہ کمی کیا ہے
لگا کے تخت کو ٹھوکر کہا یہ شاہوں نے
تیری گدائی کے آگے شہنشہی کیا ہے
نبی کے عِشْق نے لفظوں کو کر دِیا انمول
نبی کی نعت ہے ورنہ یہ شاعِری کیا ہے
ہیں جس کے مولا نبی، اُس کے ہیں علی مولا
اب اِس میں اور سمجھنا ہے کیا، علی کیا ہے
خموش رہ کے وہ دُشْمن کو مات دیتے تھے
اِسی سے جان لو مِعیارِ اظہری کیا ہے
پہن کے بیٹھے ہیں گُلزار جُبَّہِ مولا
اِسی سے جان لو گُلزار واسطی کیا ہے
نعت خواں:
اسد اقبال کلکتوی
سید عبد الوصی قادری رضوی
نبی کے حُسْن کے آگے یہ چاندنی کیا ہے
نبی کی نعت پڑھی جا رہی ہے محفل میں
ذرا بتائیے لب پر یہ خاموشی کیا ہے
اگر ہے آنا تو آنا نبی کے روضے پر
اے موت ! تجھ کو بتاؤں گا زندگی کیا ہے
نبی کے شہر میں جنّت تلاش کرتا ہے
ذرا مجھے تو بتا اُس جگہ کمی کیا ہے
لگا کے تخت کو ٹھوکر کہا یہ شاہوں نے
تیری گدائی کے آگے شہنشہی کیا ہے
نبی کے عِشْق نے لفظوں کو کر دِیا انمول
نبی کی نعت ہے ورنہ یہ شاعِری کیا ہے
ہیں جس کے مولا نبی، اُس کے ہیں علی مولا
اب اِس میں اور سمجھنا ہے کیا، علی کیا ہے
خموش رہ کے وہ دُشْمن کو مات دیتے تھے
اِسی سے جان لو مِعیارِ اظہری کیا ہے
پہن کے بیٹھے ہیں گُلزار جُبَّہِ مولا
اِسی سے جان لو گُلزار واسطی کیا ہے
نعت خواں:
اسد اقبال کلکتوی
سید عبد الوصی قادری رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں