ذرا چھیڑ تو نغمۂ قادریت کہ ہر تار بولے گا تن تن تنا تن | Zara Chhed Tu Naghma-e-Qadriyyat Lyrics in Urdu
ذرا چھیڑ تو نغمۂ قادریّت، کہ ہر تار بولے گا تن تن تنا تن
تیری روح ہرگز رہے گی نہ رقصاں، جو گردش میں رہتی ہے گن گن گنا گن
ابوجہل ہاتھوں میں کنکریاں لایا، تو سرکار نے اُن کو کلمہ پڑھایا
مگر پھر بھی ایماں وہ ناری نہ لایا، پلٹ کے وہ بھاگا تھا دن دن دنا دن
چلے عرش کی سیر کو میرے آقا، تو جنّت سے بُرّاق خدمت میں آیا
ہواؤں سے گزرے، فضاؤں سے گزرے، چلے جا رہے تھے وہ سن سن سنا سن
بس اتنی سی ہے اِلتجا، میرے آقا ! کہ کل روزِ محشر ہو جس وقت برپا
لبوں پر رہے وِرد صلِّ علیٰ کا، میں نعتیں پڑھے جاؤں من من منا من
یہ ہے نوری ٹکسال نوری میاں کی، یہاں جنّتی سِکّے ڈھلتے رہے ہیں
یہاں کھوٹے سِکّے کی جا ہی نہیں ہے، ہر اِک سِکّہ بجتا ہے کھن کھن کھنا کھن
غُلامِ شہنشاہِ بغداد میں ہُوں، مِرا دوہرا رِشتہ ہے خواجہ پِیا سے
گلے میں مِرے چشتی پٹّہ پڑا ہے، میں ہُوں قادری سُنّی ٹن ٹن ٹنا ٹن
غُلامِ شہنشاہِ برکات میں ہُوں، مِرا دوہرا رشتہ ہے اچّھے میاں سے
گلے میں مِرے نوری پٹّہ پڑا ہے، میں ہُوں قادری سُنّی ٹن ٹن ٹنا ٹن
زباں پر مِری نام نوری کا آیا، تو نُورانِیَت نے گلے سے لگایا
کمر میں بندھی تھی جو زنجیرِ عصیاں، گِری ٹُوٹ کر بولی جھن جھن جھنا جھن
تجھے نظمی ! شیطان کا خوف کیوں ہو، تجھے پیر سیّد میاں سے مِلے ہیں
کریں گے کرم کی نظر تیرے اوپر، تو شیطان بھاگے گا زن زن زنا زن
شاعر:
نظمی میاں مارہروی
نعت خواں:
مناظر حسین بدایونی
تیری روح ہرگز رہے گی نہ رقصاں، جو گردش میں رہتی ہے گن گن گنا گن
ابوجہل ہاتھوں میں کنکریاں لایا، تو سرکار نے اُن کو کلمہ پڑھایا
مگر پھر بھی ایماں وہ ناری نہ لایا، پلٹ کے وہ بھاگا تھا دن دن دنا دن
چلے عرش کی سیر کو میرے آقا، تو جنّت سے بُرّاق خدمت میں آیا
ہواؤں سے گزرے، فضاؤں سے گزرے، چلے جا رہے تھے وہ سن سن سنا سن
بس اتنی سی ہے اِلتجا، میرے آقا ! کہ کل روزِ محشر ہو جس وقت برپا
لبوں پر رہے وِرد صلِّ علیٰ کا، میں نعتیں پڑھے جاؤں من من منا من
یہ ہے نوری ٹکسال نوری میاں کی، یہاں جنّتی سِکّے ڈھلتے رہے ہیں
یہاں کھوٹے سِکّے کی جا ہی نہیں ہے، ہر اِک سِکّہ بجتا ہے کھن کھن کھنا کھن
غُلامِ شہنشاہِ بغداد میں ہُوں، مِرا دوہرا رِشتہ ہے خواجہ پِیا سے
گلے میں مِرے چشتی پٹّہ پڑا ہے، میں ہُوں قادری سُنّی ٹن ٹن ٹنا ٹن
غُلامِ شہنشاہِ برکات میں ہُوں، مِرا دوہرا رشتہ ہے اچّھے میاں سے
گلے میں مِرے نوری پٹّہ پڑا ہے، میں ہُوں قادری سُنّی ٹن ٹن ٹنا ٹن
زباں پر مِری نام نوری کا آیا، تو نُورانِیَت نے گلے سے لگایا
کمر میں بندھی تھی جو زنجیرِ عصیاں، گِری ٹُوٹ کر بولی جھن جھن جھنا جھن
تجھے نظمی ! شیطان کا خوف کیوں ہو، تجھے پیر سیّد میاں سے مِلے ہیں
کریں گے کرم کی نظر تیرے اوپر، تو شیطان بھاگے گا زن زن زنا زن
شاعر:
نظمی میاں مارہروی
نعت خواں:
مناظر حسین بدایونی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں