اشاعتیں

Chhoti He لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
ADVERTISEMENT

ہے کلام الٰہی میں شمس و ضحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم | Hai Kalam-e-Ilahi Mein Shams-o-Duha Lyrics in Urdu

ہے کلامِ الٰہی میں شَمس و ضُحٰے، تِرے چہرۂ نُور فزا کی قسم قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا، کہ حبیب کی زُلْفِ دوتا کی قسم تِرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا، تِری خِلْق کو حق نے جمیل کِیا کوئی تجھ سا ہُوا ہے نہ ہو گا، شہا ! تِرے خالقِ حُسن و ادا کی قسم وہ خُدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دِیا، نہ کِسی کو مِلے نہ کِسی کو مِلا کہ کلامِ مجید نے کھائی، شہا ! تِرے شہر و کلام و بقا کی قسم تِرا مَسْنَدِ ناز ہے عرشِ بریں، تِرا محرمِ راز ہے رُوحِ امیں تُو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے، شہا ! تِرا مِثل نہیں ہے خُدا کی قسم یہی عرض ہے خالقِ ارض و سما، وہ رسول ہیں تیرے میں بندہ تِرا مجھے اُن کے جوار میں دے وہ جگہ، کہ ہے خُلْد کو جس کی صفا کی قسم تُو ہی بندوں پہ کرتا ہے لُطْف و عطا، ہے تجھی پہ بھروسا تجھی سے دُعا مجھے جلوۂ پاکِ رسول دِکھا، تجھے اپنے ہی عِزّ و عُلا کی قسم مِرے گرچہ گناہ ہیں حد سے سِوا، مگر اُن سے اُمید ہے تجھ سے رجا تُو رحیم ہے اُن کا کرم ہے گوا، وہ کریم ہیں تیری عطا کی قسم یہی کہتی ہے بُلبُلِ باغِ جناں، کہ رضا کی طرح کوئی سِحر بَیاں نہیں ہِند میں واصفِ شاہِ ہُدیٰ، مجھے شوخیِ طبعِ رضا کی ...

ہزاروں میں بہتر تن تھے تسلیم و رضا والے | Hazaron Mein Bahattar Tan The Tasleem-o-Raza Wale Lyrics in Urdu

ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا کہ دیکھو یُوں نکلتے ہیں جہنّم سے خدا والے کسی نے جب وطن پُوچھا تو یُوں حضرت نے فرمایا مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے حُسین ابن علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی یہ خود مُشکل کُشا تھے اور تھے مُشکل کُشا والے دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے نعت خواں: مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے گلا کٹوا کے ثابت کر گئے ہیں کربلا والے قضا سے بھی نہیں ڈرتے ہیں تسلیم و رضا والے پُکار اُٹّھیں گے دُشمن آپ کے حملوں سے گھبرا کے یہی تو ہیں علی والے، نبی والے، خدا والے کِسی نے جب وطن پُوچھا تو یہ حضرت نے فرمایا مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے یزیدی پائیں گے دوزخ، ہے دوزخ اُن کی قسمت میں جِناں پائیں گے اہلِ بیت کی مدح و ثنا وال...

ہیں جان و دل یہ ہمارے تمہارے نام حسین | Hain Jaan-o-Dil Ye Hamare Tumhare Naam Hussain Lyrics in Urdu

یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، تمہیں سلام، حُسین ! ہیں جان و دل یہ ہمارے تمہارے نام، حُسین ! ہمارے دل پہ رقم ہیں تمہارے نام، حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، تمہیں سلام، حُسین ! السّلام السّلام السّلام، یا حُسین ! السّلام السّلام السّلام، یا حُسین ! تمہارا ثانی کہاں ابنِ فاطِمہ زہرا ! قرارِ عشق و وفا تم پہ ہے تمام، حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، تمہیں سلام، حُسین ! لُٹا کے گھر کو بچایا تھا تو نے دینِ خُدا زمانہ بھولے گا کیسے تیرا قیام، حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، تمہیں سلام، حُسین ! السّلام السّلام السّلام، یا حُسین ! السّلام السّلام السّلام، یا حُسین ! شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین دیں است حُسین، دیں پناہ است حُسین سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید حقّا کہ بِنا لا اِلٰہ است حُسین یزیدِ وقت کے ہاتھوں میں ہاتھ دے نہ کوئی یہی ہے شوکتِ مومن، یہی پیامِ حُسین یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، یا حُسین ! یا حُسین، تمہیں سلام، حُسین ! سلام کرب و بلا کے اے ج...

ہمارے قائد و رہبر حسین زندہ ہیں | Hamare Qaid-o-Rahbar Hussain Zinda Hain Lyrics in Urdu

ہمارے قائِد و رہبر حُسین زِندہ ہیں رسُولِ پاک کے مظہر حُسین زِندہ ہیں نبی کے دین کی خاطر شہید ہو کر بھی ہر ایک سُنّی کے اندر حُسین زِندہ ہیں ڈرے وہ جِن کا جہاں میں نہیں کوئی حامی حُسینیوں کو ہو کیوں ڈر، حُسین زِندہ ہیں تمہارا تختِ حکومت ابھی پلٹ دیں گے یزِیدیو ! نہ کرو شر، حُسین زِندہ ہیں جِناں میں قاسم و عبّاس سَیر کرتے ہیں وہیں پہ اکبر و اصغر، حُسین زِندہ ہیں شہیدوں کو کبھی مُردہ گُمان نہ کرنا خُدا بھی کہتا ہے یکسر حُسین زِندہ ہیں انہیں جو مُردہ سمجھتے ہیں وہ کریں ماتم میرا عقیدہ ہے دِلبر حُسین زِندہ ہیں لگایا غوث و رضا، خواجہ نے یہی نعرہ ہمارے مولا و سرور حُسین زِندہ ہیں ابھی تو باقی ہے کربل کا آخری میداں بتا دو کُفر کو جا کر حُسین زِندہ ہیں یزیدِ وَقْت کا دِل کانپ جائے دہشت سے اے سُنّیو ! کہو مِل کر، حُسین زِندہ ہیں زمینِ کرب و بلا کہہ رہی ہے کیا تجھ سے سُن، اے یزید کے لشکر ! حُسین زِندہ ہیں اِسی سے جان لو ہے کون فاتحِ کربل یزید مَر گیا ہے پر حُسین زِندہ ہیں متاعِ عشق کی خیرات مانگ لو، ایُّوب ! سراپا عِشق کے پیکر حُسین زِندہ ہیں شاعر: محمد ایوب رضا امج...

ہوں خاک مگر عالم انوار سے نسبت ہے | Hun Khak Magar Aalam-e-Anwaar Se Nisbat Hai Lyrics in Urdu

ہُوں خاک مگر عالمِ انوار سے نِسبَت ہے میں کچھ بھی نہیں لیکن سرکار سے نِسبَت ہے دنیا کی شہنشاہی رکھتا ہُوں میں ٹھوکر پر کونین کے اُس مالک و مختار سے نِسبَت ہے میں خاک کا پُتلا ہُوں، وہ عرش کے راہی ہیں اِس پار کا باسی ہُوں، اُس پار سے نِسبَت ہے ہیں روزِ ازل سے میری گُھٹّی میں وفا ئیں نازاں ہُوں کہ عبّاس علم دار سے نِسبَت ہے سر جُھک نہیں سکتے سرِ محشر بھی ہمارے سر اِس لیے اُونچے ہیں، سردار سے نِسبَت ہے ہم ماننے والے ہیں حُسین ابنِ علی کے وقت آئے اگر دِیں پہ تو پھر دار سے نِسبَت ہے سرکار کے دامن سے، الطاف ! ہُوں وابستہ غم پاس بھی کیوں آئیں کہ غم خوار سے نِسبَت ہے شاعر: سید الطاف شاہ کاظمی نعت خواں: عمیر منیر قادری طلحہ قادری हिन्दी ENG اردو

ہم سنی بریلی والے ہیں | Hum Sunni Bareilly Wale Hain Lyrics in Urdu

ہم سُنّی بریلی والے ہیں، ہم سُنّی بریلی والے ہیں بستی بستی قریہ قریہ، نعرہ لگانے والے ہیں یُوں ہم کو بھگانا بھارت سے آسان نہیں ہے دُشمن کا خواجہ پِیا اجمیری کی ہم چادر چڑھانے والے ہیں کیوں مسلکِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ نہ لگائیں جیتے جی جب کہ رضا کے نام کا ہم تو صدقہ کھانے والے ہیں یُوں ہم کو مِٹانا دنیا سے آسان نہیں ہے امریکہ دینِ نبی کی خاطر ہم تو سر کو کٹانے والے ہیں نعت خواں: سلیم رضا پیلی بھیتی हिन्दी ENG اردو

ہے نوری پسینے کی مہک سے یہ چمن پھول | سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول تضمین کے ساتھ | Hai Noori Paseene Ki Mahak Se Ye Chaman Phool Lyrics in Urdu

ہے نوری پسینے کی مہک سے یہ چمن پھول ہر خار بنا دم سے تیرے رشکِ عدن پھول ہے نُوری نَیَن، نُوری سُخن، نُوری بتن پھول سر تا بقدم ہے تنِ سُلطانِ زَمن پھول لب پھول دَہن پھول ذَقن پھول بدن پھول نعلین کے ذرّوں کی چمک عرش نے پائی قرآں نے قسم مکّہ مدینہ کی ہے کھائی اِک میں ہی نہیں بلکہ ہے قُربان خُدائی دندان و لب و زُلف و رُخِ شہ کے فِدائی ہیں دُرِّ عدن، لعلِ یمن، مُشکِ ختن، پھول ہو قلب مُعَطّر میرا، سرکارِ مدینہ ! مانگا یہ کرُوں رب سے دُعا روز و شبینہ محفوظ رہے حشر تک ایماں کا خزینہ وَاللّٰہ جو مِل جائے مِرے گل کا پسینہ مانگے نہ کبھی عِطْر، نہ پھر چاہے دُلہن پھول سرکارِ مدینہ کا ہے پُر نُور سراپا خاکی کی نظر خاک کرے اُس کا نظارہ افلاک کے تاروں نے لگایا یہی نعرہ دِل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخنِ پا کا اتنا بھی مہِ نو پہ نہ اے چرخِ کُہن ! پھول جب خاک مِلی مجھ کو تیرے بابِ کرم کی پھر پنجتنِ پاک کی توصیف رقم کی اے شریفِ رضا ! تجھ کو مِلی بھیک حرم کی کیا بات، رضا ! اُس چمنستانِ کرم کی زہرا ہے کلی جس میں، حُسین اور حَسن پھول کلام: امام احمد رضا خان تضمین: شریف رضا پالی ...

ہم سوئے حشر چلیں گے شہ ابرار کے ساتھ | Hum Soo-e-Hashr Chalenge Shah-e-Abrar Ke Sath Lyrics in Urdu

ہم سُوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ مدحتِ خواجَۂ دیں مدحتِ سرکار کے ساتھ زندگی گُزری ہے کیفِیَّتِ سرشار کے ساتھ میں بھی وابستہ ہُوں سرکار کے دربار کے ساتھ خاک کا ذرّہ بھی ہے عالمِ انوار کے ساتھ رہ گئے منزلِ سدرہ پہ پہنچ کر جبریل چل نہیں سکتا فرشتہ تِری رفتار کے ساتھ بَخْت بیدار ہے یاور ہے مُقَدَّر اُس کا جس نے دیکھا ہے اُنہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ یہ تو طیبہ کی محبّت کا اثر ہے ورنہ کون روتا ہے لِپٹ کر در و دیوار کے ساتھ مِل ہی جائے گا کوئی خوانِ کرم کا ٹُکڑا ہے تَعَلُّق جو سگانِ درِ سرکار کے ساتھ اے خدا ! دی ہے اگر نعتِ نبی کی توفیق حُسنِ کردار بھی دے لذّتِ گُفتار کے ساتھ جب کُھلے حشر میں گیسوئے شفاعت اُن کے ہم سے عاصی بھی نظر آئیں گے ابرار کے ساتھ ایسا حج زحمت بے جا کے سِوا کچھ بھی نہیں عشق محکم نہ ہو گر احمدِ مختار کے ساتھ گر مدینے کا تَصَوُّر ہو تو ظُلمت کیسی ؟ ربط مضبوط رہے عالمِ انوار کے ساتھ پُل سے مجھ سا بھی گنہگار گُزر جائے گا ہوگی سرکار کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ رات دن بھیج سلام اُن پہ ملائک کی طرح پڑھ درود اُن پہ ...

ہوا جاتا ہے رخصت ماہ رمضاں یا رسول اللہ | Hua Jata Hai Rukhsat Mah-e-Ramzan Ya Rasoolallah Lyrics in Urdu

ہُوا جاتا ہے رُخصت ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ ! رہا اب چند گھڑیوں کا یہ مہماں، یا رسول اللہ ! خوشی کی لہر دوڑی ہر طرف رمضان جب آیا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ مسلماں، یا رسول اللہ ! مَسرّت ہی مَسرّت اور خوشی ہی تھی خوشی جِس دم نظر آیا ہِلالِ ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ ! شہا ! اب غم کے مارے خون کے آنسو بہاتے ہیں چلا تڑپا کے ہائے ! ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ ! چلا اب جلد یہ رَمضاں ستائیس آ گئی تاریخ فَقط دو دن کا اب رَمضاں ہے مہماں، یا رسول اللہ ! فضائیں نور برساتیں، ہوائیں مُسکراتی تھیں سماں اب ہو گیا ہر سَمت ویراں، یا رسول اللہ ! رِیاضت کچھ نہ کی ہم نے، عبادت کچھ نہ کی ہم نے رہے بس ہر گھڑی مشغولِ عصیاں، یا رسول اللہ ! میں ہائے ! جی چُراتا ہی رہا رب کی عبادت سے گزارا غفلتوں میں سارا رمضاں، یا رسول اللہ ! جدائی کی گھڑی جاں سوز ہے عُشّاقِ رَمضاں پر چلا اِن کو رُلا کر ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ ! تڑپتے ہیں، بلکتے ہیں، قرار آتا نہیں اِن کو بہت بے چین ہیں عُشّاقِ رمضاں، یا رسول اللہ ! گُناہوں کی سِیاہی چھا رہی ہے رُخ پہ محشر میں مِرا چہرہ پئے رَمضاں ہو تاباں، یا رسول اللہ ! مہِ رَمضاں...

ہم شبیہ مصطفیٰ صل علیٰ مولا حسن | یا مولا حسن سرکار | Ham-Shabih-e-Mustafa Salle-ala Maula Hasan Lyrics in Urdu

سیّدالاسخیاء یا حسن مجتبیٰ ! سیّدالاسخیاء یا حسن مجتبیٰ ! سردار ہو تم، مولا حسن مولا حسن ! دلدار ہو تم، مولا حسن مولا حسن ! سردار ہو تم، دلدار ہو تم میرا پیار ہو تم، مولا حسن ! ہم شبیہِ مصطفیٰ صلِّ علیٰ مولا حسن ! جانشینِ مرتضیٰ شیرِ خدا مولا حسن ! یا مولا حسن سرکار ! یا مولا حسن سرکار ! اپنے کاندھوں پر بٹھا کر سرورِ کونین نے آپ کا ہم کو بتایا مرتبہ، مولا حسن ! ہم شبیہِ مصطفیٰ صلِّ علیٰ مولا حسن ! جانشینِ مرتضیٰ شیرِ خدا مولا حسن ! یا مولا حسن سرکار ! یا مولا حسن سرکار ! تا قیامت میں کروں اِن پانچ کی مدح و ثنا مصطفیٰ، شبّیر، زہرا، مرتضیٰ، مولا حسن ہم شبیہِ مصطفیٰ صلِّ علیٰ مولا حسن ! جانشینِ مرتضیٰ شیرِ خدا مولا حسن ! یا مولا حسن سرکار ! یا مولا حسن سرکار ! ہر ولی تسبیح پڑھتا ہے تمہارے نام کی ہر ولی سو جان سے تم پر فدا، مولا حسن ! ہم شبیہِ مصطفیٰ صلِّ علیٰ مولا حسن ! جانشینِ مرتضیٰ شیرِ خدا مولا حسن ! یا مولا حسن سرکار ! یا مولا حسن سرکار ! سارے عالم میں تِرے جیسا سخی کوئی نہیں کھاتا ہے سارا جہاں صدقہ تِرا، مولا حسن ! ہم شبیہِ مصطفیٰ صلِّ علیٰ مولا حسن ! ...

ہم عاشق سرکار پہ جو رنگ چڑھا ہے | یہ رنگ رضا رنگ رضا رنگ رضا ہے | Ye Rang-e-Raza Rang-e-Raza Rang-e-Raza Hai Lyrics in Urdu

ہم عاشقِ سرکار پہ جو رنگ چڑھا ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے جس رنگ سے ہر رنگ وہابی کا اُڑا ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے جو دِل میں دِیا عشقِ رسالت کا جلا ہے اور آنکھوں میں جو خواب مدینے کا سجا ہے جو وردِ زباں صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے سُنّی کا وہابی سے کوئی میل نہیں ہے مسلک ہے رضا کا یہ کوئی کھیل نہیں ہے سُنّی تو وہابی سے مِلے گا نہ مِلا ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے گُستاخِ نبی سے نہ ڈرے ہیں نہ ڈریں گے تلوار کے سائے میں بھی حق بات کہیں گے یہ مردِ مجاہد نے سعودی سے کہا ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے اِک حُجّتُ الْاِسْلَام ہیں، اِک مُفْتی اعظم اِن دونوں سے ٹکرائے کِسی میں بھی نہیں دم سُلطانِ زمانہ بھی یہاں آ کے جُھکا ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے بد مذہبوں کو پھولنے پھلنے نہیں دیں گے سرکار کے دُشمن کو سنبھلنے نہیں دیں گے یہ درس ہمیں تاجِ شریعت نے دِیا ہے یہ رنگِ رضا، رنگِ رضا، رنگِ رضا ہے وہ ماں ہو، بہن بھائی ہو یا کوئی ہو اپنا سرکار کے دُشمن سے تَعَلُّق نہیں رکھنا پروا نہیں گر باپ خفا ہے ...

ہر ذرہ مرے دیش کا انمول رتن ہے | Har Zarra Mere Desh Ka Anmol Ratan Hai Lyrics in Urdu

ہر ذرّہ مِرے دیش کا انمول رتن ہے یہ اپنا وطن پیار و محبّت کا وطن ہے اے خاکِ وطن ! ہم تجھے رُسوا نہ کریں گے ہم تیرے لیے جان کی پروا نہ کریں گے مر جائیں گے لیکن تیرا سودا نہ کریں گے ہے جان ہتھیلی پہ لیے سر پہ کفن ہے ہر ذرّہ مِرے دیش کا انمول رتن ہے یہ اپنا وطن پیار و محبّت کا وطن ہے جیتے ہیں سبھی ایک الگ شان سے مِل کر رہتے ہیں یہاں ہِندُو مسلمان سے مِل کر خوش ہوتے ہیں انساں یہاں انسان سے مِل کر تہذیب کے پھولوں سے مُزَیّن یہ چمن ہے ہر ذرّہ مِرے دیش کا انمول رتن ہے یہ اپنا وطن پیار و محبّت کا وطن ہے تا حدِّ نظر پھیلی ہوئی سبز رِدائیں پربت سے یہ گِرتے ہوئے جھرنوں کی صدائیں بھاتی ہے ہمیں ہند کی پُر کیف فضائیں کلیوں کے لبوں پر بھی تبسُّم کی کِرن ہے ہر ذرّہ مِرے دیش کا انمول رتن ہے یہ اپنا وطن پیار و محبّت کا وطن ہے نشید خواں: اشفاق بہرائچی हिन्दी ENG اردو

ہم اصحاب کے خادم ان کے نوکر ہیں | ہم صدیق و عمر والے | Hum Ashab Ke Khadim Unke Naukar Hain Lyrics in Urdu

ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں ہم صِدّیق و عمر والے ہم عُثماں، حیدر والے کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں میرے نبی کے سارے اصحاب ہیں زندہ باد ابُو بکر صِدّیق، عُمر خطّاب ہیں زندہ باد عُثماں غنی بھی پیارے ہیں مولا علی بھی ہمارے ہیں مومِن کے دِل میں ہر دم یہ دھڑکتے ہیں ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں ہم صِدّیق و عمر والے ہم عُثماں، حیدر والے کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں ذکرِ علی تو، یارو! چہرے دِکھلائے ذکرِ مُعاویہ، لوگو! نسلیں بتلائے علی مُعاویہ ہیں بھائی راہِ عظِیمت کے راہی جب یہ کہتے ہیں مُنکر جلتے ہیں ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں ہم صِدّیق و عمر والے ہم عُثماں، حیدر والے کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں پیاری امّی عائشہ! تُجھ پر جاں قُرباں امّی! تیری عِفّت پر میری ماں قُرباں ہم تیرے ہی بیٹے ہیں سُن لے دُنیا، کہتے ہیں امّی کی خاطر ہم شوق سے مرتے ہیں ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں ہم صِدّیق و...

ہم مدینے سے اللہ کیوں آ گئے | Hum Madine Se Allah Kyun Aa Gaye Lyrics in Urdu

ہم مدینے سے اللہ کیوں آ گئے قلبِ حیراں کی تسکین وہیں رہ گئی دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام و سحر وہ سُکونِ دل و جان و روح و نظر یہ اُنہی کا کرم ہے، انہی کی عطا ایک کیفیتِ دل نشیں رہ گئی اللہ اللہ ! وہاں کا سُجُود و قیام اللہ اللہ ! وہاں کا دُرُود و سلام اللہ اللہ ! وہاں کا وہ کیفِ دوام وہ صلوٰۃِ سُکُوں آفریں رہ گئی جس جگہ سجدہ ریزی کی لذّ ت مِلی جس جگہ ہر قدم اُن کی رحمت مِلی جس جگہ نُور رہتا ہے شام و سحر وہ فلک رہ گیا، وہ زمیں رہ گئی پڑھ کے نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ فَتْحٌ قَرِیْب جب ہوئے ہم رواں سوئے کوئے حبیب برکتیں، رحمتیں ساتھ چلنے لگیں بے بسی زندگی کی یہیں رہ گئی زندگانی وہیں، کاش ! ہوتی بسر کاش، بہزاد ! آتے نہ ہم لوٹ کر اور پُوری ہوئی ہر تمنّا مگر یہ تمنّائے قلبِ حزیں رہ گئی شاعر: بہزاد لکھنوی نعت خواں: ذوالفقار علی حسینی زہیب اشرفی فرحان علی قادری हिन्दी ENG اردو

ہر شان تری شان پہ قربان ہے مولیٰ | Har Shaan Teri Shaan Pe Qurban Hai Maula Lyrics in Urdu

ہر شان تِری شان پہ قربان ہے، مولیٰ ! کیا خُوب بُزرگی کی تِری شان ہے، مولیٰ ! تابندہ ہے قِندیلِ فلک سے یہ زمانہ اور اُس میں تِرے نور کا فیضان ہے، مولیٰ ! ہر سمت تِرے حُسن کے جلوے کی دھمک ہے کیا دشت و چمن، کوہ و بیابان ہے، مولیٰ ! خیرات مِلے مجھ کو تِری شان کے لائق میں سائلِ خستہ ہوں، تُو سُلطان ہے، مولیٰ ! ہم چاہ کے بھی فضل تِرا گِن نہیں سکتے بے لَوث تِرا خَلق پہ احسان ہے، مولیٰ ! واللہ مِری چاہ نہیں شُہرتِ طَلبی بس تیری رضا زیست کا عُنوان ہے، مولیٰ ! اب بادِ مدینہ سے گُلِ دل کو کِھلا دے مُرجھایا مِرے قلب کا گُلدان ہے، مولیٰ ! بس اپنے کرم سے تُو مجھے بخش دے، یا رب ! میں بندۂ عاصی ہوں، تُو رحمان ہے، مولیٰ ! سرکار کے جلووں سے اب ایّوب کے دِل کو آباد تُو فرما کہ یہ ویران ہے، مولیٰ ! شاعر: محمد ایوب رضا امجدی نعت خواں: صابر رضا ازہری سورت हिन्दी ENG اردو

ہدایت راہنمائی ہیں میرے سرکار کی باتیں | Hidayat Rahnumai Hain Mere Sarkar Ki Baatein Lyrics in Urdu

ہدایت راہنُمائی ہیں میرے سرکار کی باتیں بھلائی ہی بھلائی ہیں میرے سرکار کی باتیں گِریں گے تاج قدموں میں نبی کا بن کے تو دیکھو صحابہ نے سکھائی ہیں میرے سرکار کی باتیں بنے صِدِّیق و فاروق اور غنی و حیدرِ کرّار وہ جِن کے من کو بھائی ہیں میرے سرکار کی باتیں خزانہ مِل گیا گویا جہاں میں دردمندوں کو غریبوں کی کمائی ہیں میرے سرکار کی باتیں بھٹکنے ہی نہیں دیتا ہے اُن کا اسوۂ حَسَنَہ بھنور میں نا خدائی ہیں میرے سرکار کی باتیں اندھیرے جب بھی آئے ہیں میری منزل کے رستے میں ہمیشہ جگمگائی ہیں میرے سرکار کی باتیں ہوئی تدفین نفرت کی، وفاؤں کے چمن مہکے محبّت کی دُہائی ہیں میرے سرکار کی باتیں وجودِ زَن کو بخشی آبرو سر پر رِدا دے کر حیا ہیں پارسائی ہیں میرے سرکار کی باتیں بغیر اُن کی اِطاعت کے عبادت ہے رِیا کاری خدا سے آشنائی ہیں میرے سرکار کی باتیں مجھے، افضال ! بھاتے ہی نہیں منظر زمانے کے میرے دِل میں سمائی ہیں میرے سرکار کی باتیں شاعر: افضال صدیقی نعت خواں: حسن افضال صدیقی हिन्दी ENG اردو

ہے میلاد حضور کا | پندرہ سو سالوں سے جاری ہے یہی سلسلہ | Hai Milad Huzoor Ka Lyrics in Urdu

میرے آقا آئے ہیں، سج گیا زمانہ ہے میرے آقا آئے ہیں، سج گیا زمانہ ہے آیا آیا آیا جشنِ نبی ! آیا آیا آیا جشنِ نبی ! جاں ہے میری، دِل ہے میرا ! نبی نبی میرا نبی ! لب پہ رہا، دل میں بسا ! نبی نبی میرا نبی ! رب کی عطا، نورِ خدا ! نبی نبی میرا نبی ! دل کا سکوں جوش و جُنوں ! نبی نبی میرا نبی ! کتنا ہے خوش یہ زمانہ ہے میلاد حضور کا، ہے میلاد حضور کا پندرہ سو سالوں سے جاری ہے یہی سلسلہ ہے میلاد حضور کا، ہے میلاد حضور کا پیدا ہوئے جب پیارے محمد گرنے لگے پھر بت کعبے کے مشکل ہے کفر کا چلنا ہے میلاد حضور کا، ہے میلاد حضور کا پندرہ سو سالوں سے جاری ہے یہی سلسلہ ہے میلاد حضور کا، ہے میلاد حضور کا آمِنہ بی بی کے گھر آئے نوری فرشتہ جُھولا جُھلائے کیسا ہے نوری چہرہ ہے میلاد حضور کا، ہے میلاد حضور کا پندرہ سو سالوں سے جاری ہے یہی سلسلہ ہے میلاد حضور کا، ہے میلاد حضور کا پیشْوائے انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ ! مُرسلیں کے مُقتدیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ ! سیّدِ ارض و سما ! مرحبا یا مصطفیٰ ! سرور ہر  دو سرا ! مرحبا یا مصطفیٰ ! خلق کے حاجت روا ! مرحبا یا مصطفیٰ ! دافِعِ رنج و بلا ! مرح...

ہماری ہو نگہبانی بحق شاہ جیلانی | الٰہی خیر گردانی بحق شاہ جیلانی | Ilahi Khair Gardani Ba-haqq-e-Shah-e-Jilani Lyrics in Urdu

ہماری ہو نگہبانی، بحقِّ شاہِ جیلانی الٰہی ! خیر گردانی، بحقِّ شاہِ جیلانی میرے مولیٰ ! عطا کرنا ہمیشہ اس وسیلے سے ہر اک مشکل میں آسانی، بحقِّ شاہِ جیلانی تو مالک ہے خزانوں کا، کرم سے دور فرما دے ہماری تنگ دامانی، بحقِّ شاہِ جیلانی خدایا ! دین و دنیا کی ہر اک نعمت عطا کر دے بحقِّ شاہِ جیلانی، بحقِّ شاہِ جیلانی زمانہ دیکھ کر حیران ہے، ہم لوگ کرتے ہیں گدائی میں بھی سلطانی، بحقِّ شاہِ جیلانی بہ روز حشر دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ہو رہے پُر نُور پیشانی، بحقِّ شاہِ جیلانی ہماری خستہ حالی پر، خدایا ! تیری رحمت کی رہے ہر دم فراوانی، بہہق شاۂ جیلا وسیلہ بھی ضروری ہے، جبھی سرور ! یہ کہتے ہیں الٰہی ! خیر گردانی، بحقِّ شاہِ جیلانی شاعر: سرور حسین نقشبندی نعت خواں: سرور حسین نقشبندی

ہجوم غم میں گھرا ہوا ہوں حضور میرا خیال رکھئے | Hujoom-e-Gham Mein Ghira Hua Hun Huzoor Mera Khayal Rakhiye Lyrics in Urdu

ہجومِ غم میں گھرا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے میں در پہ کب سے پڑا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے نہ کوئی ہمدم، نہ کوئی ساتھی، کسے میں رودادِ غم سناؤں میں بے سہارا پڑا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے مِرے ہیں چاروں طرف مسائل، ہے روح اندر سے میری گھائل میں ٹھوکروں میں پلا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے اُداس لمحوں میں جی رہا ہوں، میں تلخ موسم کو پی رہا ہوں میں آنسوؤں سے بنا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے کہیں یہ مجھ کو جلا نہ ڈالے، جلا کے مجھ کو بجھا نہ ڈالے میں آبِ زر سے ڈرا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے میں حرفِ مطلب سجا کے تشنہ لبوں پہ لایہ ہوں، میرے آقا ! میں عمر بھر کا لٹا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے ریاض شاعر ہوں آپ کا میں، ادب سے در پر کھڑا ہوں کب سے یہاں مقامی بنا ہوا ہوں، حضور ! میرا خیال رکھئے شاعر: ریاض حسین چودھری نعت خواں: اسد رضا عطاری سید زبیب مسعود علی شبیر हिन्दी ENG اردو

ہم کبھی نہ بھلائیں گے | Hum Kabhi Na Bhulayenge Lyrics in Urdu

اے مصطفیٰ کے نواسو ! علی کے دلدارو ! تمہیں خدا کے یہ بندے سلام کہتے ہیں ہے یاد وہ منظر کربل کا بہتا ہوا خون وہ اصغر کا وہ زخمی بدن، جلتے خیمے نظروں سے نہ ہرگز جائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے زہرا کے مہکتے گلشن کا ہر پھول مسل ڈالا تو نے پیاسے ہونٹوں کو زخمی کیا ظالم ! کیا کر ڈالا تو نے یہ ظلم، یہ آلِ نبی پہ ستم ساری دنیا کو بتائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے وہ لٹتی جوانی قاسم کی عبّاس کے وہ کٹتے بازو وہ عون و محمّد کی لاشیں وہ بہتا ہوا کربل میں لہو محشر کے دن یہ ظلم وستم ظالم پہ قہر بن جائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے یہ ذکر، یہ گیت شہادت کے یہ نغمے ان کی شجاعت کے یہ گھر گھر میں اُن کی باتیں لب پر نعرے اور نم آنکھیں عاشورہ کا دن اور سوکھی زباں کربل کی یاد دلائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے اے کوفیو ! یہ کیا تم نے کیا آلِ احمد کو دھوکہ دیا پہلے دعوت دی آنے کی آئے تو تنہا چھوڑ دیا خود کو حق پر کہنے والے منہ کیا حیدر کو دکھائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں گے ہم کبھی نہ بھلائیں...